آج کی اسلامی تاریخ کیا ہے – آج کی عربی تاریخ کیا ہے – آج کی اردو تاریخ کیا ہے

آج کی اسلامی تاریخ کیا ہے – آج کی عربی تاریخ کیا ہے – آج کی اردو تاریخ کیا ہے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میں ہوں مولانا اسعد،ہماری ویب سائٹ پر آپ کا خیر مقدم  ہے۔پیارے اسلامی بھائیوں  آپ کیسے ہو؟ امید ہے کہ آپ  خیر وعافیت سے ہونگے اللہ آپ کو  خیر وعافیت کے ساتھ لمبی عمر عطاء فرمائے آمین۔ پیارے دوستوں  آج کی اسلامی تاریخ کیا ہے؟ کیا آپ اس کی تلاش میں ہے؟ تو آپ صحیح جگہ پر ہیں، آپ یہاں سے آج کی عربی تاریخ کیا ہے؟ جان سکتے ہیں۔

پیارے بھائی مجھے یہ بتانے میں بڑی خوشی ہورہی ہے کہ آج کی اردو تاریخ کیا ہے؟ اس  اعلان کو  روزانہ بارہ بجے کے فورًا بعدعلمائے کرام کی نگرانی میں  ہماری ٹیم  اپ ڈیٹ کردیتی ہے۔ نیز اگر آپ  کو دین ِ اسلام سے متعلق کوئی سوال ہو تو نیچے کمینٹ باکس میں پوچھ سکتے ہیں جس کا فورًا جواب دیا جائیگا ۔

آج کی اسلامی تاریخ کیا ہے؟

عیسوی       تاریخہجری       تاریخ
DayTuesdayمنگلدن
Date27۱۶تاریخ
MonthFebruary شعبان المعظممہینہ
Year2024۱۴۴۵سال

ہجری سن معلوم کرنے کا طریقہ اورہجری اور عیسوی کیلنڈر کے حساب کے اصول وقوانین

چاند و سورج کی دو رفتاریں ہیں ایک ہے طول میں اور دوسری ہے عرض میں، چاند اور سورج روزانہ جو مسافت طے کرتے ہیں وہ طول ہے اور سال میں جو مسافت طے کرتے ہیں وہ عرض ہے۔ چاند جو اپنی مسافت عرض میں طے کرتا ہے اُس کی اس گردش کو اسلامی کیلنڈر سے ایک سال میں 354 دن اور 9 گھنٹہ مانا گیا ہے۔ یعنی چاند کو عرض کی طرف سے اپنی جگہ آنے میں 354 دن 9 گھنٹے لگ جاتے ہیں ، تب ایک سال ہجری کا بنتا ہے۔

 سورج جو اپنی مسافت عرض میں طے کرتا ہے اُس کی گردش کو ایک سال میں 354 دن اور 6 گھنٹہ مانا گیا ہے۔ یعنی سورج کو عرض کی طرف سے اپنی جگہ آنے میں 365 دن گھنٹے لگ جاتے ہیں ، تب ایک سال عیسوی کا بنتا ہے ۔ گویا ایک سال میں ہجری اور عیسوی کے درمیان دس دن اکیس گھنٹے کا فرق رہتا ہے۔ یہ فرق تو سال میں ہے لیکن عیسوی اور ہجری دونوں کے دن برابر چلتے رہیں گے ایک دن کے مقابل ایک ہی دن رہے گا، 

البتہ دس دن اکیس گھنٹے کا یہ فرق عیسوی کے سو سال کو ہجری کے حساب سے ایک سو تین سال پچیس دن بنا دے گا۔ لیکن دنوں میں دونوں کی تعداد برابر رہے گی ۔ اس وجہ سے تطبیق میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ مثلاً عیسوی کے سو سال میں 36525 دن بنتے ہیں تو ہجری کے ایک سوتین سال پچیس دن کے بھی 36525 ہی دن بنتے ہیں ۔ ایک اہم اصول ہے کہ کسی بھی عیسوی تاریخ کے لیے جو دن پڑے گا اس کے سوسال کے بعد پھر وہی تاریخ اس سے ایک دن پہلے پڑے گی۔

مثلاً یکم جنوری 2024 میں پیر کا دن پڑا ہے تو اس سے ایک سو سال کے بعد وہی تاریخ یکم جنوری 2124 اتوار کے دن پڑے گی ۔ اگر ماقبل کی تاریخیں دیکھی جائیں تو یہی اصول کام کرے گا یعنی ایک سو سال قبل وہی تاریخ ایک دن کے بعد پڑے گی ۔ مثلاً یکم جنوری 1915 میں جمعہ کے دن پڑی ہو گی کیوں کہ یکم جنوری 2015 میں جمعرات کے دن پڑی ہے۔

سوال یہ ہے کہ سو سال کے بعد پھر وہی تاریخ ایک دن پہلے کیوں آتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سو سال میں کل 36525 دن بنتے ہیں ، اس میں کچھ گھنٹہ یا منٹ بچا ہوا نہیں رہتا ہے۔ اگر اس عدد کو ہفتہ میں تبدیل کیا جائے تو ایک دن کم 5218 ہفتہ بنتے ہیں یعنی 5217 ہفتہ اور چھ دن ۔ اگر مکمل 5218 ہفتے بنتے تو دوسری صدی پھر اسی دن سے شروع ہوتی جو دن پہلی تاریخ میں پڑا تھا، لیکن چونکہ ایک دن کم ہے؟

اس لیے دوسری صدی ایک دن پہلے سے شروع ہوگی ۔ اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر صدی کے بعد دوسری صدی شروع ہونے میں صرف ایک دن کا فرق رہے گا۔ جن جنتریوں میں دو دن ، تین دن یا چار دن کا فرق دکھایا گیا ہے، وہ یقینی طور پر غلط ہوں گی ایسی جنتریوں میں غلطی عموماً اس وجہ سے واقع ہوتی ہے کہ یا تو ان میں کسی غلط مفروضہ پر اعتماد کیا گیا ہوگا یا پھر صرف سو سال یا دو سو سال پر مشتمل وہ جنتریاں ہوتی ہیں اور اس میں غلط تاریخ پر اعتماد کر لیا جاتا ہے۔ 

بسا اوقات حساب کی غلطی بھی اس کا سبب بن جاتی ہے، مثال کے طور پر مارکیٹ میں دستیاب اور کمپوٹرائزڈ تین جنتریوں کو منتخب کر کے دس صدیوں کا تقابل پیش کیا جاتا ہے جس سے ہمارے قارئین کو نہ صرف یہ کہ صحیح اصول کی پہچان ہو جائے گی ؟ بلکہ بہت سی رائج جنتریوں میں پائے جانے والے غلط حساب کا بھی بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔

اسلامک فائنڈ ر ڈاٹ آرگ یا اسلامک سٹی ڈاک کام میں آپ غور کریں گے تو عیسوی بعض صدیوں میں تو ایک دن کا فرق ملے گا، لیکن بعض میں دو دن کا اور بعض میں چار دن کا بھی فرق ملے گا جو اصول کے حساب سے صحیح نہیں ہے، اصول کے مطابق ایک صدی سے لے کر دوسری صدی تک صرف ایک ہی دن کا فرق نکلنا چاہیے۔

 یہی غلطی ہجری تاریخوں میں بھی ہے کہ تطبیق بھی غلط اور تاریخیں بھی غلط ہیں صرف 1935 اور 2035 والی دوصدیوں کی تاریخ و تطبیق درست ہے بقیہ نہیں؛ کیوں کہ ان جیسی جنتریوں میں تاریخیں یا تو غلط اصول پر مبنی ہیں یا غلط معلومات پر یا پھر غلط حساب پر اعتماد کیا گیا ہے۔ اس کے مقابل تحفہ شاہجہانی دائمی کیلنڈر مرتبہ مولانا عبدالمقیت ابن شاہجہاں، میں غور کریں تو پوری دس صدیوں میں ہر جگہ عیسوی میں صرف ایک ہی دن کا فرق ملتا ہے اور ہجری میں پانچ یا چھ دن کا جو صحیح اصول کے عین مطابق ہے۔

بازار میں ایک جنتری انجمن ترقی اردو ہند، نئی دہلی سے شائع ہونے والی تقویم ہجری و عیسوی بھی دستیاب ہے۔ اس جنتری میں جمعہ کا دن 16 جولائی 622 میں دکھایا گیا ہے؛ جبکہ انگریزی یعنی عیسوی کیلنڈر سے بھی 16 جولائی 622 میں جمعہ کا دن نہیں آتا ہے؛ بلکہ جمعہ کے دن جولائی کی 15 تاریخ آتی ہے ۔ آپ موجودہ دن اور تاریخ سے ماقبل کی طرف حساب کر کے دیکھ لیں۔ یا تو 16 جولائی کو 15 جولائی بنانا پڑے گا یا پھر جمعہ کے دن کو سینچر کے دن سے بدلنا پڑے گا ان دونوں باتوں میں سے کسی ایک کو ماننا پڑے گا ؟ اس لیے کہ انگریزی تاریخیں بالکل طے شدہ ہوتی ہیں۔ 

دن جمعہ کا طے کیا جائے اور اس کی تاریخ 16 جولائی طے کی جائے یہ نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً؛ جبکہ عیسوی کیلنڈر میں دنوں کی تعداد قطعی طور پر متعین ہے تو آپ خود حساب لگا کر دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح ہجری تطبیق میں بھی فحش غلطی کی گئی ہے ۔ جیسے کہ پہلی ہجری کی پہلی تاریخ 15 جولائی 622 سے دکھائی جو حقیقت میں 18 جولائی میں ہے ۔

پہلی ہجری کی پہلی تاریخ سے لے کر ذی الحجہ 1435 کی آخری تاریخ تک کل دن بنتے ہیں پانچ لاکھ آٹھ ہزار پانچ سو اٹھائیس (508528) اب اگر عیسوی تاریخ کے دن بھی اتنے ہی نکلیں تو مطابقت صحیح ہوگی ورنہ غلط ثابت ہوگی؟ کیوں کہ اب اگر 15 جولائی 622 مطابق یکم محرم پہلی ہجری سے لے کر 25 اکتو بر 2014 تک کے دن شمار کیے جائیں جو ذی الحجہ 1435 کا آخری دن تھا، تو کل دن نکلے (508531) پانچ لاکھ آٹھ ہزار پانچ سو اکتیس ۔

اس سے پتہ چلا کہ ہجری اور عیسوی کے دنوں کی تعداد برابر نہیں رہی بلکہ تین دن کا فرق نکلتا ہے؛ جبکہ مطابقت کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کے دن برابر رہیں ؟ کیوں کہ ایک دن کے مقابلے میں ایک ہی دن آتا ہے، دنوں میں کمی زیادتی نہیں ہو سکتی ہے، ایک ہفتے میں سات دن عیسوی میں ہیں تو سات ہی دن ایک ہفتے میں ہجری کے بھی ہیں ، گویا دنوں میں کمی زیادتی نہیں ؛ بلکہ کمی زیادتی سال کے دنوں کی تعداد میں ہوتی ہے۔ اس حساب سے معلوم ہوا کہ انجمن والی جنتری میں تطبیق صحیح نہیں ہے۔

اسی طرح دیگر کمپیوٹرائزڈ جنتریوں میں بھی آپ غور کریں کہ یکم جنوری 1135 کی مطابقت میں 14 ربیع الاول 529ھ دکھایا گیا ہے؟ جبکہ صحیح حساب کے مطابق کے ربیع الاول 529ھ ہے اور تحفہ شاہجہانی دائمی کیلنڈر میں سے ربیع الاول ہی دکھایا گیا ہے۔ اسی کی ایک دوسری مثال اور سمجھیں، کمپیوٹرائزڈ دونوں جنتریوں میں یکم جنوری 1535 کا مطابق دکھا گیا ہے 26 / جمادی الثانی 941ھ اور اس کے بعد یکم جنوری 1635 کا مطابق دکھایا گیا ہے 11 رجب 1044ھ ۔ 

اب حساب لگا کر دیکھا جائے تو عیسوی حساب سے کل دن ۳۶۵۲۵ بنتے ہیں ، لیکن ہجری میں 26 جمادی الثانی 941 سے 11 رجب 1044 تک کل دن صرف 36515 ہی دن نکلتے ہیں گویا دس دن کا فرق نکل رہا ہے ۔ اس کے مقابل تحفہ شاہجہانی دائمی کیلنڈر میں جو مطابقت دکھائی گئی اس میں دونوں حساب سے 36525 ہی نکلتے ہیں۔ ایک دوسری بڑی خرابی یہ ہے کہ کمپیوٹرائز دونوں جنتریوں میں سے ایک میں تو 2100 کی 29 فروری اور یکم مارچ کو ایک ہی دن دوشنبہ میں دکھایا گیا ہے ، 

آپ غور کریں کہ ایک ہی دن میں دو تاریخیں کیسے ہو سکتی ہیں؟ اور دوسری میں 29 فروری کو چھوڑ دیا گیا ہے؛ جبکہ یہ سال leap year یعنی اس کا فروری کا مہینہ 29 دن والا ہے؛ کیوں کہ یہ چار پر تقسیم ہو جاتا ہے۔ اس میں ایک دن گھٹانے کی وجہ سے باقی تمام تاریخیں پیچھے ہو گئی ہیں، لیکن تحفہ شاہجہانی دائمی کیلنڈر راس خرابی سے پاک ہے۔ اصول کے مطابق عیسوی کی ایک صدی میں ہجری کے ایک سو تین سال پچیس دن ہوتے ہیں؟

لیکن کمپوٹر کی جنتریوں میں 1535 سے لے کر 1635 تک ایک صدی میں ہجری کی جو تاریخ دکھائی گئی ہے، اس میں صرف ایک سو تین سال اور پندرہ دن ہی بنتے ہیں۔ مثلاً 26 / جمادی الثانی 941 ھ سے لے کر 25 جمادی الثانی 1044 تک کل 103 سال بنتے ہیں اس کے بعد 11 رجب تک کے کل 15 دن ہوتے ہیں؛ جبکہ اصول کے مطابق 25 دن ہونے چاہئیں ؟ 

اس لیے کہ عیسوی کے سوسال میں 36525 دن ہوتے ہیں ہجری حساب سے اس تعداد کو پورا کرنے میں 103 میں کل دن 36500 ہی بنیں گے، صدی مکمل کرنے کے لیے 25 دن کی مزید ضرورت پڑتی ہے؛ تاکہ عیسوی اور ہجری کے دنوں کی تعداد برابر ہو سکے ۔ اگر یہی حساب تحفہ شاہجہانی دائمی کیلنڈر سے جوڑا جائے تو ایک سو تین سال پچیس دن ہی نکلتے ہیں۔

مندرجہ بالا میں لکھے گئے لوگوں کے کچھ سوالات

پہلا سوال سن عیسوی سے کیا مراد ہے؟ دوسرا سوال جو آپ کے ذہن میں گردش کررہے ہونگے کہ ہجری اور عیسوی سال میں کیا فرق ہے؟ اسی طرح تیسرا سوال کہ کیلنڈر کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟ ایسے ہی چوتھا سوال قمری سال کتنے دنوں کا ہوتا ہے؟ پانچواں سوال عیسی علیہ السلام کی پیدائش کب ہوئی؟ چھٹا سوال یہ ہے کہ ہجری سال کا آغاز کب ہوا؟ اور ایک سال میں کتنے دن؟ ہوتے ہیں ایسے ہی ایک شمسی سال میں کتنے دن ہوتے ہیں؟ ان تمام سوالوں کے جوابات مندرجہ بالا مضمون میں دیے گئے ہیں۔

اسلامی مہینوں کے نام 

میرے اسلامی  بھائیوں  اگر آپ کو اسلامی مہینوں کے نام زبانی یاد نہیں ہیں وہ مندرجہ ذیل ناموں کو صحیح تلفظ کے ساتھ یاد کرنے کی کوشش کریں اور اپنے بچوں کو بھی یاد کرائیں،لہذا ہماری ٹیم نے آپ کی آسانی کے لیے اعراب زبر زیر پیش لگا دیے ہیں، نیز اس کو لکھنے میں بہترین عربی خط( Arabic Font) کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ پڑھنے اور سمجھنے میں مزید آسانی ہو سکے۔

Islami Mahino Ke Naam In Urdu

مُحَرّمُ الْحَرامْ Muharram
صَفَرُ الْمُظَفَّرْSafar
 رَبِیْعُ الْاَوَّلْRabi ul Awwal
رَبِیْعُ الثَّانِیْRabi us Sani
جَمَادِی الْاُوْلٰیjamadil awwal
جَمَادَی الْاُخْرٰیJamadil Akhir
رَجَبُ الْمُرَجَّبْRajab ul Murajjab
شَعْبَانُ الْمُعَظَّمْShaban ul Moazzam
رَمَضَانُ الْمُبَارَکْRamazan ul Mubark
شَوَّالُ الْمُکَرَّمْshawwal ul Mukarram
ذِی الْقَعْدَہْZilqada
ذِی الْحِجَّہْZilhijjah

 

فہرست مضامین

ماہِ ربیع الاول کی فضیلت
بارہ ربیع الاول کب ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت  کی انگریزی تاریخ کیا ہے؟
یوم عاشورہ کی فضیلت و اہمیت
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
پاکستان میں آج کی اسلامی تاریخ کیا ہے؟
یوم جمہوریہ 26 جنوری پر شاندار تقریر
اسلامی ہجری کیلنڈر ڈاؤن لوڈ کیجئے
قرآن کے بارے میں دلچسپ معلومات
لڑکیوں کے خوبصورت اسلامی نام
نماز تہجد کی حیران کن فضیلت
بہت ہی اہم اسلامی معلومات جانیے
اسلامی کوئز مقابلہ میں حصہ لیجیے
صلاۃ التسبیح کا طریقہ اور فضیلت
ان پیج اردو اب آپ کے موبائل میں
لڑکوں کے خوبصورت اسلامی نام
شجرہ نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم
شادی کی پہلی رات کے آداب
طلبائے مدارس کے لئے سروے پیپر
قرآن کا ٹیکسٹ کاپی پیسٹ کیجیے
سورہ ملک کی بہت بڑی فضیلت
سورہ یاسین کی تلاوت کیجئے
ورزش کے بغیر بھی آپ فِٹ رہ سکتے ہیں
موٹاپے سے چھٹکارے کا جادوئی طریقہ
خوبصورت اور کم عمر دکھنے کا بہترین نسخہ
مکتب کے اساتذہ سے چندرا ہم گزارشات
بچوں کو بورڈ پر پڑھانے کا بہترین طریقہ
نمازوں کے اوقات جانیے
نماز کا طریقہ عملی طور پر
نماز میں ہونے والی غلطیوں سے متعلق
ویکسین کیا ہے اور کن چیزوں سے بنتی ہے؟
چائے پینے کے حیرت انگیز فوائد
ہم لوگ بیمار کیوں ہوتے ہیں آپ کو پتہ ہے؟
سبز الائچی کی ناقابل یقین فوائد
ضرورت برائے امام مدارس موذن
خوبصورت اردو فونٹ ڈائنلوڈ کیجیے

 

3 thoughts on “آج کی اسلامی تاریخ کیا ہے – آج کی عربی تاریخ کیا ہے – آج کی اردو تاریخ کیا ہے”

    • السلام علیکم ورحمۃ اللہ
      انس بھائی آپ نے کہا کہ مہینے غلط لکھے گئے ہیں۔
      لیکن میں نے غلطی کو تلاش کیا تو سمجھ نہیں آیا کہ کہاں غلطی ہوئی ہے

      برائے کرم پھر سے میری اصلاح کیجے تاکہ میں اسے صحیح کرسکوں

      جواب دیں
    • انس بھائی آپ نے کہا کہ مہینے غلط لکھے گئے ہیں۔
      لیکن میں نے غلطی کو تلاش کیا تو سمجھ نہیں آیا کہ کہاں غلطی ہوئی ہے

      برائے کرم پھر سے میری اصلاح کیجے تاکہ میں اسے صحیح کرسکوں

      جواب دیں

Leave a Comment