رمضان کیلنڈر 2026 – رمضان کی تاریخ کیا ہے – Ramzan ki Tarikh Kya Hai
دوستوں! رمضان کلینڈر 2026 سے متعلق بات کرنے سے پہلے میں آپ کو یہ بتادوں کہ رمضان المبارک ہجری کیلنڈر کے مطابق نوّا مہینہ ہے۔اس کے بعد شوال کا مہینہ شروع ہوتا ہے اور شوال اسلامی سال کا دسواں قمری مہینہ ہے۔
| 1/ رمضان المبارک ۔ 19/ فروری / 2026 2/ رمضان المبارک ۔ 20/ فروری / 2026 3/ رمضان المبارک ۔ 21/ فروری / 2026 4/ رمضان المبارک ۔ 22/ فروری / 2026 5/ رمضان المبارک ۔ 23/ فروری / 2026 6/ رمضان المبارک ۔ 24/ فروری / 2026 7/ رمضان المبارک ۔ 25/ فروری / 2026 8/ رمضان المبارک ۔ 26/ فروری / 2026 9/ رمضان المبارک ۔ 27/ فروری / 2026 10/ رمضان المبارک ۔ 28/ فروری / 2026 11/ رمضان المبارک ۔ 01/ مارچ / 2026 12/ رمضان المبارک ۔ 02/ مارچ / 2026 13/ رمضان المبارک ۔ 03/ مارچ / 2026 14/ رمضان المبارک ۔ 04/ مارچ / 2026 15/ رمضان المبارک ۔ 05/ مارچ / 2026 16/ رمضان المبارک ۔ 06/ مارچ / 2026 17/ رمضان المبارک ۔ 07/ مارچ / 2026 18/ رمضان المبارک ۔ 08/ مارچ / 2026 19/ رمضان المبارک ۔ 09/ مارچ / 2026 20/ رمضان المبارک ۔ 10/ مارچ / 2026 21/ رمضان المبارک ۔ 11/ مارچ / 2026 22/ رمضان المبارک ۔ 12/ مارچ / 2026 23/ رمضان المبارک ۔ 13/ مارچ / 2026 24/ رمضان المبارک ۔ 14/ مارچ / 2026 25/ رمضان المبارک ۔ 15/ مارچ / 2026 26/ رمضان المبارک ۔ 16/ مارچ / 2026 27/ رمضان المبارک ۔ 17/ مارچ / 2026 28/ رمضان المبارک ۔ 18/ مارچ / 2026 29/ رمضان المبارک ۔ 19/ مارچ / 2026 30/ رمضان المبارک ۔ 20/ مارچ / 2026 01/ شوال المکرم۔ 21/ مارچ / 2026
|
شوال کا چاند 2026
میرے اسلامی بھائیوں!1st Shawwal 2026) کے بارے میں ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ شوال کا چاند 20/ مارچ 2026 جمعہ کے روز ہوگا۔
عید الفطر کی تاریخ 2026
پیارےاسلامی بھائیوں! عید الفطر 2026 ( eid ul fitr 2026 date)کےبارےمیں ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ 21/ مارچ 2026/ سنیچر کے روز ہے۔
روزے کے روحانی فوائد
اللہ تعالیٰ نے ہمارے نفس کی اصلاح کے لئے روزے فرض کئے ہیں۔ دیکھو ! اللہ کی مرضی کچھ اور چاہتی ہے اور ہمارا نفس کچھ اور چاہتا ہے ۔ کتنے کاموں سے اللہ ہمہیں روکتا ہے اور ہمارا نفس ہم کو اسی کام کے کرنے کو کہتا ہے۔ اور کتنی باتوں کا اللہ ہمیں حکم دیتا ہے اور ہمارا نفس ان ہی باتوں پر عمل کرنے سے منع کرتا ہے۔
روزے کا مقصد کیا ہے
نفس کی اس طاقت کو توڑنے کے لئے اور ہم کو متقی اور پرہیز گار بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر سال رمضان میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ روزہ جس طرح ہم پر فرض ہے اسی طرح ہم سے پہلے والوں پر بھی فرض تھا۔حضرت آدم علیہ السّلام سے اب تک یہ حکم چلا آ رہا ہے۔انبیاء علیہم السّلام خود روزہ رکھتے تھے اور اُن کے ماننے والے بھی روزہ رکھتے تھے۔
حضرت موسیٰ علیہ السّلام جب طور نام کے پہاڑ پر توریت لینے تشریف لے گئے تھے تو اُنھوں نے بھی چالیس دن روزے رکھے تھے ، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی جنگل میں چالیس دن کے روزے رکھے تھے۔ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور سارے شیطان قید کر دئیے جاتے ہیں۔
روزے کے فوائد
روزہ رکھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جب اس کو بھوک لگے گی تو دوسرے کی بُھوک کا خیال پیدا ہوگا کہ ایک دن بھوکا نہیں رہ سکتے تو یہ غریب جو روزانہ بھو کے رہتے ہیں اس کی کیا حالت ہوتی ہوگی، اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں اور راحتوں پر شکر ادا کرنے کی توفیق پیدا ہو گی ۔ سچ یہ ہے کہ دوسروں کی بھوک پیاس میں وہی شخص زیادہ کام آ سکتا ہے جس نے خود بھوک پیاس کی تکلیف اُٹھائی ہو، اس حقیقت کی بناء پر ایک روزہ دار بھوکوں کو کھانا کھلانے پیاسوں کو پانی پلانے اور ضرورت والوں کی ضرورت پوری کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
روزے کی فضیلت احادیث
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے، قیامت کے دن اس دروازہ سے روزہ دار کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا ، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ یہ پکار سُن کر روزہ دار کھڑے ہونگے اور اس دروازہ سے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔
کوئی شخص اللہ کے اس فریضہ کا خیال نہ رکھے اور بغیر کسی وجہ کے روزہ نہ رکھے ، تو ایسے لوگوں کے لئے اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی ناراضگی بتلائی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ” جو شخص کسی شرعی عذر کے بغیر رمضان کا روزہ نہ رکھے وہ اس کے بدلے میں چاہے تمام عمر روزے رکھے پھر بھی اسکا بدل نہیں ہو سکتا ۔
فہرست مضامین

بہت اچھی انفارمیشن ہے اللہ تعالی ہمیں رمضان کے مہینے کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین