قرآن مجید کے بارے میں بہت ہی دلچسپ معلومات | Very interesting information about Quran in urdu

قرآن میں رکوع کا مطلب

قرآن میں رکوع کیوں آتے ہیں؟قرآن کریم میں جہاں معنی کے لحاظ سے سلسلہٴ کلام ختم ہوتا ہے، اس جگہ پر رکوع کی علامت لکھی گئی ہے، اس علامت کا مقصد ایسی متوسط مقدار کی تعیین ہے جو ایک رکعت میں پڑھی جاسکے، چنانچہ رکوع کو رکوع اسی لیے کہا جاتا ہے کہ نماز میں اس جگہ پہنچ کر رکوع کیا جائے۔

قرآن شریف کے رکوع   کے( ع )میں  لکھے ہوئے عدد کا کیا مطلب؟

قرآن میں رکوع کی علامت: قرآن شریف میں  صفحہ کی باہری جانب  یعنی حاشیہ کی طرف رکوع  لکھاہوتا ہے، جہاں جگہ کی کمی کی وجہ سے پورالفظ رکو ع نہیں لکھتے ہیں، اسکی جگہ  صرف حرف تہجی کا   ع لکھ دیتے ہیں ،اب اس ع کے  ساتھ  میں  تین عدد لکھے ہوتے ہیں ، ایک عدد ع کے اوپر ہوتا ہے دوسرا عدد ع کے نیچے ہوتا ہے اور تیسرا عدد ع کے درمیان میں لکھا ہوتا ہے ۔

(۱) ع کےاوپر جو عددلکھا ہوتا ہے وہ سورت کا ہوتا ہے ،کہ سورت کا ایک رکو ع یہاں پر پورا ہوا ۔

(۲)ع کے نیچے جو عددلکھاہوتا ہے وہ پارے کا ہوتا ہے، کہ پارے کا ایک رکو ع یہاں پرمکمل  ہوا ۔

(۳)    اسی طرح ع کے درمیان میں جو عددلکھاہوتا ہے  وہ آیات کا رکو ع ہوتا ہے، کہ پچھلے رکوع سے اس رکوع تک اتنی آیات مکمل ہو گئیں۔

مثال کے طور پر آپ نے ایک سورت شروع کی ،اب اسمیں جب پہلا رکوع آئیگا تو اس کے  درمیان میں جو عدد لکھاہواہوگا اس کا مطلب یہی ہوگا کہ  یہاں پر سورت کی پہلی آیت سے لیکر  یہاں تک اتنی آیات مکمل ہوئیں ۔  جیسےدس آیات ہیں تو یہاں پر ۱۰/ کا عدد لکھا ہوگا، پھر ۱۰/ کے بعد   گیارہ   سے جب اگلا رکوع آئےگا تو وہاں تک جتنی بھی آیات لکھی ہونگی وہ اس رکوع تک کی تعداد لکھی ہونگی ،

 

 دلچسپ اسلامی سوال جواب 

یہاں  کلک کریں

Leave a Comment