بھائی جیسا کوئی نہیں | Bhai Jaisa Koi Nahi

بھائی جیسا کوئی نہیں | Bhai Jaisa Koi Nahi

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب فرعون اور آل فرعون کو رب کے حکم کے مطابق دعوتِ توحید کے لیے جانے لگے، تو انہوں نے خدا کے حضور ایک درخواست پیش کی، کہ فرعون دبنگ، ظالم و جابر ،طاقت و قوت والا اور حکومت و سلطنت والا ہے ،اس لیے کسی کو میرا معاون ،رفیق اور دست بازو بنا دیجیئے، تاکہ کار دعوت میں اور اس اہم تبلیغی مشن میں وہ میرا ساتھ دے ، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس عریضہ کو قبول فرمایا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا ،،سنشد عضدک باخیک ،، ہم تمہارے بھائی کے ذریعہ تمہارے ہاتھ مضبوط کئے دیتے ہیں۔

اس سے پتہ چلا کہ انسان کا سب سے بڑا ہمدرد، معاون، دست راست ،وقت پر کام آنے والا اور قوت بازو بننے کی صلاحیت رکھنے والا اگر کوئی ہے اور کسی میں یہ خوبی اور صلاحیت ہے، تو وہ بھائی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کسی اور رشتہ دار اور اہل تعلق کے ذریعہ معاونت اور دست بازو مضبوط کرنے کی بات نہیں کہی، بلکہ بھائی کا انتخاب کیا اور اس کو اس کام کے لیے منتخب کیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ خون کا یہ رشتہ سب سے زیادہ اہم ہے ،اس کی ناقدری نہیں ہونی چاہیے اس رشتہ کا پاس و لحاظ خاص طور پر رکھنا چاہیے۔

ایک واقعہ کہیں پڑھا تھا وہ آج بھی حافظہ میں ہے ۔

کہتے ہیں کہ ایک دن گاؤں کے کنوئیں پہ عجیب ماجرا ھوا کہ جو ڈول بھی کنوئیں میں ڈالا جاتا واپس نہ آتا جبکہ رسی واپس آجاتی ، سارے لوگ خوفزدہ ھو گئے کہ اندر ضرور کوئی جن جنات ھے جو یہ حرکت کرتا ھے ،

 آخر اعلان کیا گیا کہ جو بندہ اس راز کا پتہ لگائے گا اس کو انعام دیا جائے گا ،، ایک آدمی نے کہا کہ اس کو انعام کی کوئی ضرورت نہیں مگر وہ گاؤں والوں کی مصیبت کے ازالے کے لئے یہ قربانی دینے کو تیار ھے مگر ایک شرط پر ،، 

شرط یہ ہے کہ میں کنوئیں میں اسی صورت اتروں گا جب رسا پکڑنے والوں میں میرا اپنا بھائی بھی شامل ھو ،،

اس کے بھائی کو بلایا گیا اور رسہ پکڑنے والوں نے رسا پکڑا اور ایک ڈول میں بٹھا کر اس بندے کو کنوئیں میں اتار دیا گیا ، اس بندے نے دیکھا کہ کنوئیں میں ایک مچھندر قسم کا بندر بیٹھا ھوا ھے جو ڈول سے فورا رسی کھول دیتا ہے ،،

 اس بندے نے اپنی جیب کو چیک کیا تو اسے گڑ مل گیا ،، اس نے وہ گڑ اس بندر کو دیا یوں بندر اس سے مانوس ھو گیا ، بندے نے اس بندر کو کندھے پر بٹھایا اور نیچے سے زور زور سے رسہ ہلایا ،، 

گاؤں والوں نے رسا کھینچنا شروع کیا اور جونہی ڈول اندھیرے سے روشنی میں آیا،وہ لوگ بندر کو دیکھ کر دھشت زدہ ھو گئے کہ یہ کوئی عفریت ہے، جس نے اس بندے کو کھا لیا ھے اور اب اوپر بھی چڑھ آیا ھے ، 

وہ سب رسہ چھوڑ کر سرپٹ بھاگے، مگر اس بندے کا بھائی رسے کو مضبوطی سے تھامے اوپر کھینچنے کی کوشش کرتا رھا تا آنکہ وہ کنارے تک پہنچ گیا ،

کنوئیں سے نکل کر اس نے بندر کو نیچے اتارا اور لوگوں کو اس بندر کی کارستانی بتائی پھر کہا کہ میں نے اسی لئے اپنے بھائی کی شرط رکھی تھی کہ اگر میرے ساتھ کنوئیں میں کوئی ان ھونی ھو گئ تو تم سب بھاگ نکلو گے جبکہ بھائی کو خون کی محبت روکے رکھے گی ،

یاد رکھیں کوئی لاکھ اچھائی کرے، مگر خونی رشتے آخرکار خون کے رشتے ہی ہوتے ہیں ، ان کی قدر کریں۔ ہر اس شخص سے دور رہیں ، جو آپ اور آپ کے بھائیوں میں غلط فہمیاں پیدا کرتے رہتے ہیں اور تعلقات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔

 

Leave a Comment